یہ دونوں تختیاں بیراج کے پینسٹھویں گیٹ کے بازو میں نصب ہیں۔انہیں پڑھتے پڑھتے میں نے یونہی پینسٹھویں گیٹ سے نیچے جھانکا اور دل حلق میں آگیا۔ بیسیوں چھوٹی بڑی چپلیں بند گیٹ کے درمیان پھنسے ہوئے پانی میں تیر رہی ہیں۔چونسٹھویں گیٹ میں یہ بیسیوں چپلیں درجنوں میں اور تریسٹھویں گیٹ پر یہ درجنوں چپلیں سینکڑوں میں اور باسٹھویں گیٹ میں ۔۔۔اور اکسٹھویں گیٹ میں اور ساٹھویں گیٹ میں۔۔۔اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ہمت جواب دے رہی ہے
یہ ہزاروں چپلیں کس کی ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں بلکہ کہاں کہاں سے آئی ہیں؟؟ شاید کوئی سکردو سے چلی ہو۔ شاید کچھ چپلیں کالام سے شامل ہوئی ہوں۔ شاید نوشہرہ سے۔۔یا شاید لیہ سے، راجن پور سے؟ کیا انہیں پہننے والے بھی دریا میں بہہ گئے؟ نہیں ؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر سینکڑوں ہزاروں لاشیں بھی اپنی چپلیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے گیٹ نمبر پینسٹھ تک ضرور آتیں۔شاید یہ وہ عورتیں ، مرد اور بچے تھے جو سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے سرپٹ بھاگے ہوں گے اور ان کے پیروں سے چپلیں اترتی چلی گئی ہوں گی ۔نہیں ؟ کیونکہ سیلابی ریلا خشکی پر چڑھنے کے بعد اتنی جلدی دریا میں دوبارہ شامل نہیں ہوتا۔شاید یہ چپلیں پہاڑی نالے لوٹ کر لائے ہوں اور مالِ غنیمت دریا بادشاہ کے مرکزی خزانے میں جمع کرا دیا ہو؟ نہیں؟ کیونکہ پہاڑی نالوں کے قریب بسے ہوئے زیادہ تر لوگ بہت غریب ہوتے ہیں۔ان میں سے بہت کم ایسی رنگ برنگی چپلیں افورڈ کر سکتے ہیں۔یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ بے بس لوگوں نے سب کچھ لوٹ لینے پر دریا کو جوتے مارنے کی کوشش کی ہو۔لیکن نہیں ! اس طرح کے دریا مخالف مظاہرے کی پچھلے ایک ماہ سے کوئی اطلاع کہیں سے نہیں آئی ۔تو پھر یہ ہزاروں چپلیں کس کی ہیں ؟ شاید کسی کمپنی کا مال رجکٹ ہوگیا ہو اور اس نے پوری کھیپ دریا میں ڈال دی ہو؟ لیکن ایسا کہاں ہوتا ہے۔رجیکٹڈ مال تو لوکل مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔اور کونسی ایسی کمپنی ہوگی جو دریا کے کنارے چپلیں بناتی ہو۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ۔ہنسوں۔ روؤں۔شک میں مبتلا رہوں۔ قیاس کے گھوڑے دوڑاتا رہوں۔۔کیا کروں ؟
Pakhtoon Aman ghwaree
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)
Bookmarks